السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال لا يجهر بها باب: جس نے کہا کہ اسے بلند آواز سے نہیں پڑھا جائے گا، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2420
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو عُثْمَانَ سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدَانَ وَأَبُو صَادِقِ بْنُ أَبِي الْفَوَارِسِ الصَّيْدَلَانِيُّ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ غِيَاثٍ، ثنا أَبُو نَعَامَةَ الْحَنَفِيُّ، عَنِ ابْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: " صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَمَا سَمِعْتُ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَعَامَةَ قَيْسِ بْنِ عَبَايَةَ الْحَنَفِيِّ وَزَادَ فِي مَتْنِهِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ جَهَرَ بِهَا، وَخَالَفَهُمَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ فَرَوَاهُ عَنْ أَبِي نَعَامَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
ابن عبداللہ بن مغفل اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز پڑھی، لیکن میں نے ان میں سے کسی کو بھی ﴿بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ﴾ [سورة الفاتحة: 1] پڑھتے نہیں سنا۔
اسی طرح اس کو جریری نے ابو نعامہ قیس بن عبایہ حنفی سے روایت کیا ہے اور انھوں نے متن میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا اضافہ بھی کیا ہے، مگر یہ کہ انھوں نے کہا: ”میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی نہیں سنا کہ اس نے اونچی آواز میں بسم اللہ پڑھی ہو۔“