السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: افتتاح القراءة في الصلاة ببسم الله الرحمن الرحيم، والجهر بها إذا جهر بالفاتحة باب: نماز میں قراءت کی ابتدا ”بسم الله الرحمن الرحيم“ سے کرنے اور سورۃ الفاتحہ بلند آواز سے پڑھنے کی صورت میں اسے بھی بلند آواز سے پڑھنے کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ حَفْصِ بْنِ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَالَ: " صَلَّى مُعَاوِيَةُ بِالْمَدِينَةِ صَلَاةً فَجَهَرَ فِيهَا بِالْقِرَاءَةِ، فَقَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِأُمِّ الْقُرْآنِ، وَلَمْ يَقْرَأْ بِهَا لِلسُّوَرَةِ الَّتِي بَعْدَهَا حَتَّى قَضَى تِلْكَ الْقِرَاءَةَ، وَلَمْ يُكَبِّرْ حِينَ يَهْوِي حَتَّى قَضَى تِلْكَ الصَّلَاةَ، فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ مَنْ شَهِدَ ذَلِكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ مِنْ كُلِّ مَكَانٍ: يَا مُعَاوِيَةُ أَسَرَقْتَ ⦗٧٢⦘ الصَّلَاةَ أَمْ نَسِيتَ؟ فَلَمَّا صَلَّى بَعْدَ ذَلِكَ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لِلسُّورَةِ الَّتِي بَعْدَ أُمِّ الْقُرْآنِ وَكَبَّرَ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا " وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.ابوبکر بن حفص کو سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مدینہ میں ایک نماز پڑھائی تو انہوں نے بلند آواز سے قرأت کی اور «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» سورہ فاتحہ کے ساتھ ملا کر پڑھی اور اس کے بعد والی سورہ کے ساتھ نہیں پڑھی حتیٰ کہ انہوں نے یہ قرأت مکمل کر لی اور رکوع و سجدے کے لیے جھکتے وقت تکبیر نہیں کہی اور نماز مکمل کر لی۔ جب انہوں نے سلام پھیرا تو مہاجرین میں سے جو لوگ موجود تھے، انہوں نے جگہ جگہ سے آپ کو آوازیں دینا شروع کر دیں کہ اے معاویہ! کیا آپ نے نماز کو کم کر دیا ہے یا بھول گئے ہیں؟ پھر جب انہوں نے اس کے بعد (دوبارہ) نماز پڑھائی تو «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» سورہ فاتحہ کے بعد والی سورت کے ساتھ بھی پڑھی اور سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر بھی کہی۔