السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من روى الجمع بينهما باب: جس نے ان دونوں (دعاؤں) کو جمع کرنے کی روایت بیان کی ہے، اس کا بیان
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ نَاجِيَةَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجَوْزَجَانِيُّ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحِمْصِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ الْمُنْكَدِرِ أَخْبَرَهُ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا اسْتَفْتَحَ الصَّلَاةَ قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَى جَدُّكَ، وَلَا إِلَهَ غَيْرُكَ، وَجَّهْتُ وَجْهِي لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لَا شَرِيكَ لَهُ " ⦗٥٣⦘.سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز شروع کرتے تو کہتے: «سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، وَتَبَارَكَ اسْمُكَ، وَتَعَالَىٰ جَدُّكَ، وَلَا إِلَٰهَ غَيْرُكَ» ”پاک ہے تو اے اللہ! اور تعریف تیرے لیے ہے اور تیرا نام برکت والا ہے اور تیری بزرگی اعلیٰ ہے اور تیرے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں۔“
”﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] میں نے یکسوئی کے ساتھ اپنے آپ کو اس ذات کی جانب متوجہ کر دیا جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] بیشک میری نماز، میری قربانی، میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا رب ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔“