السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وضع اليدين على الصدر في الصلاة من السنة باب: نماز میں دونوں ہاتھ سینے پر رکھنے کے سنت ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2335
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، ثنا ابْنُ صَاعِدٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُجْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ: حَضَرْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَوْ حِينَ نَهَضَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَدَخَلَ الْمِحْرَابَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ بِالتَّكْبِيرِ، ثُمَّ وَضَعَ يَمِينَهُ عَلَى يُسْرَاهُ عَلَى صَدْرِهِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ مسجد کو روانہ ہوئے اور محراب میں داخل ہو گئے، پھر تکبیر کہتے ہوئے اپنے ہاتھ بھی بلند کیے، پھر اپنے دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینے کے اوپر رکھا۔