السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الابتداء بالتكبير قبل الابتداء بالرفع باب: ہاتھ اٹھانے سے پہلے تکبیر کی ابتدا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2315
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ خَالِدٍ يَعْنِي الْحَذَّاءَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، " أَنَّهُ رَأَى مَالِكَ بْنَ الْحُوَيْرِثِ إِذَا صَلَّى كَبَّرَ، ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ رَفَعَ يَدَيْهِ، وَحَدَّثَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَفْعَلُ هَذَا " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ شَاهِينٍ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ وَقَالَ: إِذَا صَلَّى كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَرِوَايَةُ مَنْ دَلَّتْ رِوَايَتُهُ عَلَى الرَّفْعِ مَعَ التَّكْبِيرِ أَثْبَتُ وَأَكْثَرُ، فَهِيَ أَوْلَى بِالِاتِّبَاعِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) ابو قلابہ سے روایت ہے کہ انہوں نے مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھتے دیکھا، پہلے انہوں نے تکبیر کہی پھر رفع یدین کیا اور جب رکوع کرنے لگے تو رفع یدین کیا اور جب رکوع سے سر اٹھایا تو رفع یدین کیا اور انہوں نے فرمایا کہ ”رسول اللہ ﷺ اسی طرح کرتے تھے۔“
(ب) ایک دوسری حدیث میں اسحاق بن شاہین واسطی، خالد بن عبداللہ سے نقل کرتے ہیں کہ ”آپ ﷺ جب نماز پڑھتے تو تکبیر کہتے اور رفع یدین کرتے۔“
(ج) وہ روایات جو اس پر دلالت کرتی ہیں کہ رفع یدین تکبیر کے ساتھ ہے، وہ تعداد میں زیادہ ہیں۔ اسی بنا پر وہ اتباع کے زیادہ لائق ہیں۔ وباللہ التوفیق۔