السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يرفع يديه حذو منكبيه باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھائے
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الْوَلِيدِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ سَعِيدٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ نَصْرِ بْنِ عَاصِمٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَبَّرَ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ كَذَلِكَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ كَذَلِكَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى وَرَوَاهُ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، وَقَالَ فِي أَوَّلِهِ: رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يَجْعَلَهُمَا قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، وَكَذَلِكَ قَالَهُ هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ عَنْ قَتَادَةَ فِي إِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ، وَقَالَ فِي الرِّوَايَةِ الْأُخْرَى: إِلَى فُرُوعِ أُذُنَيْهِ، وَرَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، فَقَالَ: حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا فُرُوعَ أُذُنَيْهِ، وَفِي رِوَايَةٍ أُخْرَى: حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا اخْتَلَفَتْ هَذِهِ الرِّوَايَاتُ فَإِمَّا أَنْ يُؤْخَذَ بِالْجَمِيعِ فَيُخَيَّرَ بَيْنَهُمَا، وَإِمَّا أَنْ تُتْرَكَ رِوَايَةُ مَنِ اخْتَلَفَتِ الرِّوَايَةُ عَلَيْهِ، وَيُؤْخَذَ بِرِوَايَةِ مَنْ لَمْ يُخْتَلَفْ عَلَيْهِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لِأَنَّهَا أَثْبَتُ إِسْنَادًا، وَأَنَّهَا حَدِيثُ عَدَدٍ وَالْعَدَدُ أَوْلَى بِالْحِفْظِ مِنَ الْوَاحِدِ. قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَمَعَ رِوَايَتِهِمْ فِعْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ.سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب تکبیرِ تحریمہ کہتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کانوں کی لو تک اٹھاتے اور جب رکوع کرتے تو ایسے ہی کرتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی ایسے ہی کرتے۔
اسماعیل بن علیہ نے اس حدیث کو سعید بن ابی عروبہ سے روایت کیا ہے، اس کے شروع میں ہے کہ آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اٹھایا اور اپنے کانوں کے قریب لے گئے۔
اسی طرح ہشام دستوائی نے بھی یہ حدیث نقل کی ہے؛ قتادہ نے اس کی دو روایتوں میں سے ایک میں کہا کہ کانوں کی لو تک ہاتھ اٹھائے۔
شعبہ نے اسے قتادہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ کانوں کی لو کے برابر تک لے گئے اور ایک روایت ہے کہ اپنے کندھوں کے برابر تک لے گئے۔
ان روایات میں چونکہ اختلاف ہے لہٰذا ان میں تطبیق دی جائے گی۔
پھر جس کی روایت میں اختلاف ہو اسے چھوڑ دیا جائے گا اور جس روایت پر اتفاق ہو اس کو لے لیا جائے گا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چونکہ اس کی اسناد زیادہ ہیں لہٰذا اس حدیث کی تعداد بھی زیادہ ہے اور تعداد کا زیادہ ہونا حفظ سے زیادہ بہتر ہے۔
شیخ فرماتے ہیں: ان روایات کے ساتھ ساتھ یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عمل بھی ہے۔