السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال يرفع يديه حذو منكبيه باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے کہا کہ اپنے ہاتھ کندھوں کے برابر اٹھائے
اتَّفَقَتْ رِوَايَةُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ وَابْنِ جُرَيْجٍ وَسُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، وَشُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ وَعُقَيْلِ بْنِ خَالِدٍ، وَيُونُسَ بْنِ يَزِيدَ وَغَيْرِهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّفْعِ حَذْوَ الْمَنْكِبَيْنِ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي رِوَايَةِ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَذَلِكَ هُوَ فِي رِوَايَةِ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ فِي عَشَرَةٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.امام مالک بن انس، ابن جریج، سفیان بن عیینہ، شعیب بن ابی حمزہ، عقیل بن خالد، یونس بن یزید اور دیگر محدثین کی روایات نے زہری سے، انہوں نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے (نماز میں) ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھانے کے بارے میں اتفاق کیا ہے۔
اور اسی طرح ایوب کی روایت میں نافع سے، انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے منقول ہے۔
اور بالکل اسی طرح سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی روایت میں بھی ہے جسے انہوں نے نبی کریم ﷺ کے دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی موجودگی میں بیان کیا۔
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ بِمَكَّةَ أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ رَفَعَ يَدَيْهِ حَذْوَ مَنْكِبَيْهِ، وَإِذَا رَكَعَ، وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ " حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ سَلَمَةَ، وَقَدِ اسْتَشْهَدَ الْبُخَارِيُّ بِذَلِكَ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نماز میں داخل ہوتے تو اپنے ہاتھوں کو اپنے کندھوں تک اٹھاتے تھے اور جب رکوع کرتے یا رکوع سے سر اٹھاتے تب بھی «رَفْعُ الْيَدَيْنِ» ”رفع یدین“ کرتے تھے۔