السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: لا يكبر الإمام حتى يأمر بتسوية الصفوف خلفه باب: امام اس وقت تک تکبیر نہ کہے جب تک اپنے پیچھے صفیں سیدھی کرنے کا حکم نہ دے دے، اس کا بیان
حدیث نمبر: 2288
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَ آبَادِيُّ، وَأَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ الْبَزَّارُ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْعَدِيُّ، أنبأ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ أَقْبَلَ بِوَجْهِهِ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " فَلَقَدْ رَأَيْتُ الرَّجُلَ يُلْزِقُ مَنْكِبَهُ بِمَنْكِبِ أَخِيهِ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اقامت کے بعد اور تکبیر کہنے سے پہلے صحابہ رضی اللہ عنہم کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: ”اپنی صفوں کو سیدھا (برابر) رکھو اور باہم مل کر کھڑے ہوجاؤ، میں تم کو اپنی پیٹھ کے پیچھے سے دیکھتا ہوں۔“ انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے دیکھا کہ ہر شخص جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا تو اپنا کندھا اپنے بھائی کے کندھے کے ساتھ ملا لیتا۔