السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: سنة التكرار في المضمضة والاستنشاق باب: کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے میں تکرار (تین بار کرنے) کی سنت کا بیان
حدیث نمبر: 227
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَصْبَهَانِيُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ قَارِظٍ يَعْنِي ابْنَ ⦗٨٣⦘ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي غَطَفَانَ، قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ تَوَضَّأَ، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ مَرَّتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا مَضْمَضَ أَحَدُكُمْ، وَاسْتَنْشَقَ فَلْيَفْعَلْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ بَالِغَتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ".حافظ ثناء اللہ
ابوغطفان کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو وضو کرتے ہوئے دیکھا، انہوں نے کلی کی اور ناک میں دو مرتبہ پانی چڑھایا اور کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کلی کرے اور ناک میں پانی چڑھائے تو اچھی طرح دو یا تین مرتبہ کرے۔“