السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: وجوب تعلم ما تجزئ به الصلاة من التكبير والقرآن والذكر وغير ذلك باب: تکبیر، قرآن، ذکر اور دیگر ان امور کو سیکھنے کے وجوب کا بیان جن سے نماز ادا ہو جاتی ہے
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَاللَّفْظُ لَهُ أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، ثنا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ قَالَ: " أَتَيْنَا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَقِيقًا، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِنَا وَسَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا فَأَخْبَرْنَاهُ، فَقَالَ: " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ، فَأَقِيمُوا فِيهِمْ وَعَلِّمُوهُمْ وَمُرُوهُمْ، وَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ، ثُمَّ لِيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ابْنِ عُلَيَّةَ.سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم سب نوجوان ہی تھے۔ ہم نے آپ کے ہاں بیس راتیں قیام کیا۔ رسول اللہ ﷺ نہایت نرم دل اور مہربان تھے۔ آپ ﷺ نے خیال فرمایا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کا اشتیاق ہو گیا ہے، چنانچہ آپ ﷺ نے ہم سے ان کے بارے میں پوچھا جنہیں ہم اپنے گھروں میں چھوڑ آئے تھے، تو ہم نے آپ کو بتا دیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنے گھروں کی طرف لوٹ جاؤ، ان میں رہو اور ان کو دین کی باتیں سکھاؤ اور انہیں بھی اس کا حکم دو، اور جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے ایک اذان کہے، پھر تم میں سے جو سب سے بڑا ہو وہ امامت کروائے۔“