حدیث نمبر: 2265
حَدَّثَنَاهُ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ بْنِ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْحَسَنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " أَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ يُكَفِّرُ اللهُ ⦗٢٦⦘ بِهِ الْخَطَايَا وَيَزِيدُ بِهِ فِي الْحَسَنَاتِ؟ " قَالُوا: بَلَى يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " إِسْبَاغُ الْوُضُوءِ عِنْدَ الْمَكَارِهِ، وَكَثْرَةُ الْخُطَا إِلَى هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، وَانْتِظَارُ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصَّلَاةِ، مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ مُتَطَهِّرًا فَيُصَلِّي مَعَ الْمُسْلِمِينَ الصَّلَاةَ فِي جَمَاعَةٍ، ثُمَّ يَقْعُدُ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ الْأُخْرَى إِلَّا أَنَّ الْمَلَائِكَةَ تَقُولُ: اللهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اللهُمَّ ارْحَمْهُ، فَإِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاعْدِلُوا صُفُوفَكُمْ وَأَقِيمُوهَا، وَسُدُّوا الْفُرَجَ فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي، فَإِذَا قَالَ إِمَامُكُمْ: اللهُ أَكْبَرُ فَقُولُوا اللهُ أَكْبَرُ، وَإِذَا رَكَعَ فَارْكَعُوا، وَإِذَا قَالَ: سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا: اللهُمَّ رَبَّنَا لَكَ الْحَمْدُ، وَإِنَّ خَيْرَ صُفُوفِ الرِّجَالِ الْمُقَدَّمُ وَشَرَّهَا الْمُؤَخَّرُ، وَخَيْرَ صُفُوفِ النِّسَاءِ الْمُؤَخَّرُ وَشَرَّهَا الْمُقَدَّمُ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ إِذَا سَجَدَ الرِّجَالُ فَاخْفِضْنَ أَبْصَارَكُنَّ لَا تَرَيْنَ عَوْرَاتِ الرِّجَالِ مِنْ ضِيقِ الْأُزُرِ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور نیکیوں میں اضافہ فرماتا ہے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: کیوں نہیں، اے اللہ کے رسول ﷺ! ضرور بتائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ناپسندیدگی کے وقت مکمل اور اچھی طرح وضو کرنا، مساجد کی طرف کثرت سے پیدل چلنا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا۔ تم میں سے جو بھی آدمی اپنے گھر سے وضو کر کے نکلتا ہے اور باجماعت نماز ادا کرتا ہے، پھر مسجد میں دوسری نماز کا انتظار کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں: «اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ اَللّٰهُمَّ ارْحَمْهُ» ”اے اللہ! اسے بخش دے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔“ لہٰذا جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو صفوں کو برابر اور سیدھا کر لیا کرو اور درمیان میں خالی جگہ نہ چھوڑو، کیونکہ میں تمہیں پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھ لیتا ہوں۔ جب تمہارا امام «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہے تو تم «اَللّٰهُ أَكْبَرُ» کہو اور جب وہ رکوع کرے تو تم رکوع کرو اور جب وہ «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہے تو تم «اَللّٰهُمَّ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہو اور مردوں کی سب سے بہترین صفیں پہلی ہیں اور ان کی بدترین صفیں پچھلی ہیں اور عورتوں کی بہترین صفیں آخری صفیں ہیں اور ان کی بدترین صفیں پہلی صفیں ہیں۔“ ”اے عورتو! جب مرد سجدہ کریں تو تم اپنی نظریں پست رکھا کرو۔ مردوں کے تہہ بند تنگ (چھوٹے) ہونے کی وجہ سے تمہاری نظر ان کے ستر پر نہ پڑے۔“

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2265
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ اخرجه احمد 3/3»