حدیث نمبر: 2250
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحَافِظُ بِهَمْدَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَلَّامٍ، أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ سَلَّامٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: لَمَّا سَارَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى حُنَيْنٍ قَالَ: " أَلَا رَجُلٌ يَكْلَؤُنَا اللَّيْلَةَ " فَقَالَ أَنَسٌ أَيْ ابْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: " انْطَلِقْ " فَلَمَّا كَانَ الْغَدُ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، فَقَالَ: " هَلْ أَحْسَسْتُمْ فَارِسَكُمْ؟ " قَالُوا: لَا، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَيَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ، فَلَمَّا سَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ فَارِسَكُمْ قَدْ أَقْبَلَ " فَلَمَّا جَاءَ قَالَ: " لَعَلَّكَ نَزَلْتَ " قَالَ: لَا، إِلَّا مُصَلِّيًا أَوْ قَاضِيَ حَاجَةٍ، ثُمَّ قَالَ: " إِنِّي اطَّلَعْتُ الشِّعْبَيْنِ، فَإِذَا هَوَازِنُ بِظُعُنِهِمْ وَشَائِهِمْ وَنَعَمِهِمْ مُتَوَجِّهُونَ إِلَى حُنَيْنٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " غَنِيمَةُ الْمُسْلِمِينَ غَدًا إِنْ شَاءَ اللهُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ حنین کی جانب روانہ ہوئے تو فرمایا: ”رات کو ہم پر پہرہ کون دے گا؟“ سیدنا انس بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں دوں گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ جب صبح ہوئی تو آپ ﷺ نماز پڑھانے نکلے اور فرمایا: ”کیا تم نے اپنے گھڑ سوار کے بارے میں پتہ لگا لیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں! آپ ﷺ نماز پڑھانے لگے اور گھاٹی کی طرف بھی جھانکا۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو فرمایا: ”تمہارا گھڑ سوار آ چکا ہے۔“ جب وہ (سیدنا انس بن ابومرثد رضی اللہ عنہ) آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”شاید تم سواری سے اترے تھے۔“ انہوں نے عرض کیا: نہیں، البتہ نماز اور قضائے حاجت کے لیے اترا تھا۔ پھر عرض کیا کہ میں دو وادیوں میں گیا۔ وہاں کچھ لوگ اپنے تیز رفتار اونٹوں، بھیڑوں اور بکریوں کے ساتھ تھے اور حنین کی طرف جا رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «إِنْ شَاءَ اللَّهُ» ”اگر اللہ نے چاہا! کل یہ مسلمانوں کو بطور غنیمت ملیں گے۔“ پھر طویل حدیث ذکر کی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصلاة / حدیث: 2250
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن۔ اخرجه ابوداود 2501»