السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: ما في صلاته الوتر على الراحلة من الدلالة على أن الوتر ليس بواجب باب: سواری پر نمازِ وتر ادا کرنے میں اس بات کی دلالت کا بیان کہ وتر واجب نہیں ہے
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحُسَيْنِ الْعَدْلُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدِ بْنِ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ بَنِي كِنَانَةَ يُدْعَى الْمُخْدَجِيَّ سَمِعَ سَمِعَ رَجُلًا بِالشَّامِ يُدْعَى أَبَا مُحَمَّدٍ يَقُولُ: إِنَّ الْوِتْرَ وَاجِبٌ قَالَ الْمُخْدَجِيُّ: فَرُحْتُ إِلَى عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَاعْتَرَضْتُ لَهُ وَهُوَ رَائِحٌ إِلَى الْمَسْجِدِ، فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ، فَقَالَ عُبَادَةُ: كَذِبَ أَبُو مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسُ صَلَوَاتٍ كَتَبَهُنَّ اللهُ عَلَى الْعِبَادِ، فَمَنْ جَاءَ بِهِنَّ لَمْ يُضَيِّعْ مِنْهُنَّ شَيْئًا اسْتِخْفَافًا بِحَقِّهِنَّ كَانَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ بِهِنَّ فَلَيْسَ لَهُ عِنْدَ اللهِ عَهْدٌ إِنْ شَاءَ عَذَّبَهُ، وَإِنَّ شَاءَ أَدْخَلَهُ الْجَنَّةَ ".ابن محیریز سے روایت ہے کہ بنو کنانہ کا ایک آدمی جسے مخدجی کہا جاتا تھا، اس نے شام میں ابو محمد نامی ایک شخص کو کہتے ہوئے سنا کہ وتر واجب ہیں۔ مخدجی کہتے ہیں: میں سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں پہنچا اور وہ مسجد میں آرام فرما رہے تھے۔ میں نے انہیں اس کے بارے میں بتایا جو ابو محمد نے کہا تھا کہ وتر واجب ہیں، تو سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ابو محمد جھوٹ بولتا ہے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”اللہ نے بندوں پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جو انہیں (پورا) لائے گا تو اللہ تعالیٰ اسے اپنی ذمہ داری میں جنت میں داخل کرے گا اور جو ان نمازوں کو ضائع کر دے گا تو اللہ تعالیٰ کا اس کے بارے میں کوئی عہد نہیں، اگر چاہے تو اس کو عذاب دے اور اگر چاہے تو اس کو جنت میں داخل کر دے۔“