السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الوتر على الراحلة باب: سواری پر وتر کی نماز ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2215
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ قَالَ: قُلْتُ لِنَافِعٍ: أَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُوتِرُ عَلَى الرَّاحِلَةِ؟ قَالَ: وَهَلْ لِلْوَتْرِ فَضِيلَةٌ عَلَى سَائِرِ التَّطَوُّعِ؟ " إِي وَاللهِ لَقَدْ كَانَ يُوتِرُ عَلَيْهَا ".حافظ ثناء اللہ
جریر بن حازم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے نافع رحمہ اللہ سے پوچھا: کیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سواری پر وتر پڑھا کرتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا: کیا وتروں کو دیگر تمام نوافل پر برتری حاصل ہے؟ اللہ کی قسم! وہ سواری پر ہی وتر ادا کر لیا کرتے تھے۔