السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الإيماء بالركوع والسجود، والسجود أخفض من الركوع باب: رکوع اور سجدے کے لیے اشارہ کرنے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کی نسبت زیادہ جھک کر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: " بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَةٍ، فَجِئْتُ وَهُوَ يُصَلِّي عَلَى رَاحِلَتِهِ نَحْوَ الْمَشْرِقِ، وَالسُّجُودُ أَخْفَضُ مِنَ الرُّكُوعِ " فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " إِنِّي كُنْتُ أُصَلِّي ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے کسی کام کی غرض سے بھیجا۔ جب میں واپس آیا تو آپ اپنی سواری پر مشرق کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے اور آپ سجدے میں رکوع سے زیادہ جھکتے۔ میں نے آپ ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں نماز پڑھ رہا تھا۔“