السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: الدليل على إباحة ذلك على أي مركوب كان ناقة أو حمارا باب: اس دلیل کا بیان کہ یہ رخصت ہر قسم کی سواری پر مباح ہے خواہ وہ اونٹنی ہو یا گدھا
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا تَمْتَامٌ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا هَمَّامٌ ح وَأَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، ثنا أَحْمَدُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ ⦗٨⦘ رَجَاءٍ، ثنا هَمَّامٌ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: لَقِينَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ حِينَ قَدِمَ مِنَ الشَّامِ فَلَقِيتُهُ بِعَيْنِ التَّمْرِ قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُصَلِّي عَلَى حِمَارٍ وَوَجْهُهُ مِنْ هَذَا الْجَانِبِ، يَعْنِي عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، فَقُلْتُ لَهُ: رَأَيْتُكَ تُصَلِّي لِغَيْرِ الْقِبْلَةِ " فَقَالَ: " لَوْلَا أَنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُهُ مَا فَعَلْتُهُ، وَفِي حَدِيثِ عَفَّانَ وَوَجْهُهُ ذَلِكَ الْجَانِبَ وَأَوْمَى هَمَّامٌ عَنْ يَسَارِ الْقِبْلَةِ، وَقَالَ فِي آخِرِهِ: لَمْ أَفْعَلْهُ، يَعْنِي التَّطَوُّعَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حَبَّانَ، عَنْ هَمَّامٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ، عَنْ عَفَّانَ.(الف) انس بن سیرین سے روایت ہے کہ جب انس بن مالک رضی اللہ عنہ شام سے آئے تو ہم آپ سے ملنے گئے۔ میری ان سے ”عین التمر“ کے مقام پر ملاقات ہوئی۔ آپ رضی اللہ عنہ گدھے پر بیٹھے نماز ادا کر رہے تھے اور آپ کا چہرہ قبلہ کی بائیں جانب تھا، میں نے ان سے عرض کیا: میں آپ کو غیر قبلہ کی طرف منہ کیے ہوئے نماز پڑھتے دیکھ رہا ہوں! انہوں نے فرمایا: ”اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو اس طرح کرتے نہ دیکھا ہوتا تو میں اس طرح کبھی نہ کرتا۔“
(ب) اور عفان کی حدیث میں ہے کہ ان کا چہرہ اسی جانب تھا، ہمام نے اشارے سے بتایا کہ قبلہ کی بائیں جانب، اس روایت کے آخر میں ہے کہ ”پھر میں بھی اس طرح نہ کرتا۔“