السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب استقبال القبلة -- باب: تحويل القبلة من بيت المقدس إلى الكعبة باب: قبلہ رخ ہونے کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2193
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ، وَالْكَعْبَةُ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَبَعْدَ مَا تَحَوَّلَ إِلَى الْمَدِينَةِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، ثُمَّ صَرَفَهُ اللهُ تَعَالَى إِلَى الْكَعْبَةِ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ بیشک نبی ﷺ (مکہ میں) بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے اور کعبہ کو اپنے اور بیت المقدس کے درمیان رکھتے تھے۔ اس کے بعد جب آپ (ہجرت کر کے) مدینہ منورہ تشریف لائے تو سولہ ماہ تک بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے۔ پھر اللہ نے انہیں کعبہ کی طرف پھیر دیا۔