السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
جماع أبواب استقبال القبلة -- باب: تحويل القبلة من بيت المقدس إلى الكعبة باب: قبلہ رخ ہونے کے احکام کے متعلق ابواب کا جامع بیان -- باب: بیت المقدس سے کعبہ کی طرف قبلہ تبدیل ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 2191
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى قِبَلَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ سِتَّةَ عَشَرَ شَهْرًا، أَوْ سَبْعَةَ عَشَرَ شَهْرًا، وَكَانَ يُعْجِبُهُ أَنْ تَكُونَ قِبْلَتُهُ قِبَلَ الْبَيْتِ، وَأَنَّهُ صَلَّى صَلَاةَ الْعَصْرِ، وَصَلَّى مَعَهُ قَوْمٌ، فَخَرَجَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ صَلَّى مَعَهُ، فَمَرَّ عَلَى أَهْلِ مَسْجِدٍ وَهُمْ رَاكِعُونَ " فَقَالَ: " أَشْهَدُ بِاللهِ لَقَدْ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ مَكَّةَ، فَدَارُوا كَمَا هُمْ قِبَلَ الْبَيْتِ ".حافظ ثناء اللہ
براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی۔ آپ کی دلی خواہش یہ تھی کہ آپ کا قبلہ بیت اللہ ہو جائے۔ آپ نے عصر کی نماز (کعبہ کی طرف منہ کر کے) پڑھائی۔ جن لوگوں نے آپ کے ساتھ نماز ادا کی ان میں سے ایک آدمی نکلا۔ وہ ایک مسجد کے پاس سے گزرا جہاں لوگ باجماعت نماز ادا کر رہے تھے اور وہ حالت رکوع میں تھے تو اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ (بیت اللہ) کی طرف منہ کر کے نماز پڑھی ہے۔ یہ سن کر وہ لوگ فوراً بیت اللہ کی طرف گھوم گئے۔