السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : عدة أم الولد إذا توفي عنها سيدها. باب: جب اُمِ ولد کا آقا فوت ہو جائے تو اس کی عدت کا بیان۔
حدیث نمبر: 21810
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، ⦗٥٨٦⦘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ فِي أُمِّ الْوَلَدِ يُتَوَفَّى عَنْهَا سَيِّدُهَا: " تَعْتَدُّ بِحَيْضَةٍ ". وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الْعِدَّةِ مَا رُوِيَ فِيهَا مِنَ الِاخْتِلَافِ، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ..حافظ ثناء اللہ
نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں کہ جب ام ولد کا مالک فوت ہو جائے تو اس کی عدت کے بارے میں حکم یہ ہے کہ وہ ایک حیض عدت گزارے گی۔