السنن الكبرى للبيهقي
كتاب عتق أمهات الأولاد— امہات الاولاد کی آزادی کا بیان
باب: : ولد أم الولد من غير سيدها بعد الاستيلاد. باب: اُمِ ولد کے اس بچے کا بیان جو استیلاد (آقا کی طرف سے اولاد ہونے) کے بعد اس کے آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21800
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مَخْرَمَةُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: " إِذَا وَلَدَتِ الْأَمَةُ مِنْ سَيِّدِهَا فَنَكَحَتْ بَعْدَ ذَلِكَ فَوَلَدَتْ أَوْلَادًا كَانَ وَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا عَبِيدًا مَا عَاشَ سَيِّدُهَا، فَإِنْ مَاتَ فَهُمْ أَحْرَارٌ ".حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی اپنے مالک کی اولاد کو جنم دے اور وہ (لونڈی) بعد میں نکاح کر لے اور اس کی اولاد ہو تو اس کی اولاد اسی کے مرتبہ میں غلام ہوگی جب تک سید زندہ رہے۔ اگر وہ فوت ہو گیا تو وہ آزاد ہیں۔