السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ بْنُ أَبَانَ، قَالَ: سُئِلَ عِكْرِمَةُ عَنْ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ، قَالَ: " هُنَّ أَحْرَارٌ "، قَالُوا لَهُ: بِأِيِّ شَيْءٍ تَقُولُهُ؟ قَالَ: " بِالْقُرْآنِ "، قَالُوا: بِمَاذَا مِنَ الْقُرْآنِ؟ قَالَ: " قَوْلُ اللهِ تَعَالَى: {أَطِيعُوا اللهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ} [النساء: ٥٩] وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أُولِي الْأَمْرِ، قَالَ: عَتَقَتْ وَإِنْ كَانَ سَقْطًا ".حکم بن ابان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عکرمہ رحمہ اللہ سے امہات الاولاد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: وہ آزاد ہیں، انہوں نے کہا: آپ کیوں یہ بات کہتے ہیں؟ فرمایا: قرآن کی وجہ سے۔ انہوں نے کہا: قرآن میں کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ﴾ [سورة النساء: 59] اللہ اور رسول کی اطاعت کرو اور حکمرانوں کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اولوالامر میں سے تھے۔ فرماتے ہیں: وہ آزاد ہوگی اگرچہ بچہ مردہ بھی ہو۔
(ب) سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ام الولد آزاد ہے اگرچہ بچہ مردہ ہی کیوں نہ ہو۔“