السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21784
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ زَكَرِيَّا الْمَدَائِنِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي سَارَّةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وَلَدَتْ مَارِيَةُ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا " قَالَ عَلِيٌّ: تَفَرَّدَ بِحَدِيثِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، وَزِيَادٌ ثِقَةٌ، وَلِحَدِيثِ عِكْرِمَةَ عِلَّةٌ عَجِيبَةٌ بِإِسْنَادٍ صَحِيحٍ عَنْهُ..حافظ ثناء اللہ
عکرمہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ماریہ رضی اللہ عنہا نے جنم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اس کے بچے نے اس کو آزاد کر دیا ہے۔“
علی (دارقطنی) کہتے ہیں: ابن ابی حسین کی حدیث کو بیان کرنے میں زیاد بن ایوب منفرد ہیں، اور زیاد ثقہ ہیں، اور عکرمہ کی حدیث میں ایک عجیب علت ہے، اگرچہ ان تک سند صحیح ہے۔