السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
مِنْهَا: مَا أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الرَّازِيُّ، خَتَنُ سَلَمَةَ بْنِ الْفَضْلِ، ثنا سَلَمَةُ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ الْخَطَّابِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي سَلَّامَةُ بِنْتُ مَعْقِلٍ، قَالَتْ: كُنْتُ لِلْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو، فَمَاتَ وَلِي مِنْهُ غُلَامٌ، فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ: الْآنَ تُبَاعِينَ فِي دَيْنِهِ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَاحِبُ تَرِكَةِ الْحُبَابِ بْنِ عَمْرٍو "؟ فَقَالُوا: أَخُوهُ أَبُو الْيَسَرِ كَعْبُ بْنُ عَمْرٍو، فَدَعَاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " لَا تَبِيعُوهَا، وَأَعْتِقُوهَا، فَإِذَا سَمِعْتُمْ بِرَقِيقٍ قَدْ جَاءَنِي فَائْتُونِي أُعَوِّضْكُمْ مِنْهَا "، فَفَعَلُوا، وَاخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَوْمٌ: إِنَّ أُمَّ الْوَلَدِ مَمْلُوكَةٌ، لَوْلَا ذَلِكَ لَمْ يُعَوِّضْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: بَلْ هِيَ حُرَّةٌ، قَدْ أَعْتَقَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَفِي ذَا كَانَ الِاخْتِلَافُ. أَخْرَجَهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ عَنِ النُّفَيْلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بِمَعْنَاهُ دُونَ مَا فِي آخِرِهِ مِنَ الِاخْتِلَافِ..سلامہ بنت معقل رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں حباب بن عمرو رضی اللہ عنہ کی لونڈی تھی، وہ فوت ہو گئے، ان کا ایک بچہ بھی تھا۔ ان کی بیوی نے کہا: اس کے قرض میں تجھے فروخت کیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حباب بن عمرو کے ترکہ کا وارث کون ہے؟“ انھوں نے کہا: اس کا بھائی ابوالیسر کعب بن عمرو رضی اللہ عنہ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو بلایا اور فرمایا: ”اس کو آزاد کر دو، فروخت نہ کرنا۔ جب تم غلام کے بارے میں سنو تو میرے پاس لاؤ۔ میں تمہیں معاوضہ دوں گا۔“ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد اختلاف کیا۔ کہتے ہیں کہ ام ولد لونڈی ہے، اس کا معاوضہ کون دے گا؟ بعض نے کہا: یہ آزاد ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے اس کو آزاد کر دیا تھا۔