السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا هُدْبَةُ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: كَانَتْ جَدَّتِي أُمَّ وَلَدٍ لِعُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَأَرَادَ ابْنٌ لِعُثْمَانَ أَنْ يَبِيعَهَا بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، وَإِنَّهَا أَتَتْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّ ابْنَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ أَرَادَ أَنْ يَبِيعَنِي، وَقَدْ كُنْتُ وَلَدْتُ لِأَبِيهِ، فَلَوْ كَلَّمْتِيهِ فَوَضَعَنِي مَوْضِعًا صَالِحًا، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا: أَوَلَدْتِ لِأَبِيهِ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: فَأْتِي أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْتِقُكِ، فَأَتَتْ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ أَنَّهَا وَلَدَتْ مِنْ عُثْمَانَ وَأَنَّ ابْنَهُ يُرِيدُ بَيْعَهَا، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى ابْنِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ، فَقَالَ: " أَرَدْتَ ذَلِكَ؟ "، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " لَيْسَ ذَاكَ لَكَ "، أَظُنُّهُ قَالَ: فَهِيَ حُرَّةٌ، قَالَتْ جَدَّتِي: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ مَا أَعْتَقَنِي، قَالَ: " وَلَدُكِ مِنْ عُثْمَانَ "، قَالَتْ فَإِنَّهُ قَدْ جَرَحَنِي هَذِهِ الْجِرَاحَ بَعْدَ مَوْتِ أَبِيهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " أَعْطِهَا أَرْشَ مَا صَنَعْتَ بِهَا ".محمد بن زیاد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری دادی عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی امِ ولد تھیں، تو عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ان کے بیٹے نے انہیں فروخت کرنا چاہا۔ وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں کہ عثمان بن مظعون کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے حالانکہ اس کے باپ کی اولاد مجھ سے ہے، اگر آپ ان سے بات کریں تو وہ مجھے درست جگہ رکھیں، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”کیا تو نے اس کے باپ کی اولاد کو جنم دیا ہے؟“ کہتی ہیں: ہاں۔ کہنے لگی: ”آپ امیر المؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ وہ تمہیں آزاد کر دیں گے۔“ وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور خبر دی کہ عثمان کی اولاد مجھ سے ہے اور اس کا بیٹا مجھے فروخت کرنا چاہتا ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عثمان بن مظعون کے بیٹے کو پیغام دیا: ”کیا آپ کا یہی ارادہ ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے لیے یہ جائز نہیں، یہ آزاد ہے“، میری دادی نے پوچھا: ”مجھے کس نے آزاد کیا؟“ فرمایا: ”تیری اولاد نے جو عثمان سے ہے“، کہنے لگی: اس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد میرے اوپر جرح کی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کا تاوان دو جو آپ نے اس کے ساتھ سلوک کیا ہے۔“