السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : الرجل يطأ أمته بالملك فتلد له باب: وہ شخص جو ملکیت کی بنا پر اپنی لونڈی سے ہم بستری کرے اور اس سے اس کا بچہ پیدا ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دَرَسْتَوَيْهِ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ الْفَارِسِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ الْحَارِثِ، ثنا أَبِي، ثنا غَيْلَانُ بْنُ جَامِعٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذْ سَمِعَ صَائِحَةً، فَقَالَ: " يَا يَرْفَأُ، انْظُرْ مَا هَذَا الصَّوْتُ؟ فَانْطَلَقَ فَنَظَرَ، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: جَارِيَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ تُبَاعُ أُمُّهَا، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: " ادْعُ"، أَوْ قَالَ: عَلَيَّ بِالْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، قَالَ: فَلَمْ يَمْكُثْ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى امْتَلَأَتِ الدَّارُ وَالْحُجْرَةُ، قَالَ: فَحَمِدَ اللهَ عُمَرُ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: " أَمَّا بَعْدُ، فَهَلْ تَعْلَمُونَهُ كَانَ مِمَّا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقَطِيعَةُ؟ "، قَالُوا: لَا، قَالَ: " فَإِنَّهَا قَدْ أَصْبَحَتْ فِيكُمْ فَاشِيَةً، ثُمَّ قَرَأَ: {هَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ}، ثُمَّ قَالَ: " وَأِيُّ قَطِيعَةٍ أَفْظَعُ مِنْ أَنْ تُبَاعَ أُمُّ امْرِئٍ مِنْكُمْ؟ وَقَدْ أَوْسَعَ اللهُ لَكُمْ"، قَالُوا: فَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ، أَوْ مَا شِئْتَ، قَالَ: " فَكَتَبَ فِي الْآفَاقِ: " أَنْ لَا تُبَاعَ أُمُّ حُرٍّ، فَإِنَّهُ قَطِيعَةٌ، وَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ".سیدنا عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اچانک انہوں نے ایک چیخ سنی، کہنے لگے: اے یرفئا! دیکھو یہ آواز کیسی ہے؟ وہ دیکھ کر آئے اور کہنے لگے کہ ایک لونڈی کی والدہ کو فروخت کیا جا رہا ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلاؤ، یا فرمایا: مہاجرین و انصار کو بلاؤ، تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: کیا تم جانتے ہو جو نبی ﷺ قطع رحمی کے متعلق لائے ہیں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ حالانکہ وہ تمہارے معاشرے میں عام ہو چکی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ﴾ [سورة محمد: 22] ”عنقریب اگر تم پھر گئے کہ تم زمین میں فساد کرو اور اپنی رشتہ داریوں کو کاٹو۔“
پھر فرمایا: اس سے بڑی قطع رحمی کیا ہے کہ تم ام ولد کو فروخت کرنا شروع کر دو، حالانکہ اللہ نے تمہارے اوپر وسعت کی ہے، لوگوں نے کہا: جو چاہو فیصلہ کرو، تو انہوں نے خط لکھوا دیے کہ ام ولد کو فروخت نہ کیا جائے۔ یہ قطع رحمی ہے اور جائز نہیں ہے۔