السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب يجوز بيعه في حالين: أن يحل نجم من نجومه فيعجز عن أدائه، أو يرضى المكاتب بالبيع. باب: مکاتب کو دو صورتوں میں فروخت کرنا جائز ہے: یہ کہ اس کی اقساط میں سے کوئی قسط واجب الادا ہو جائے اور وہ اسے ادا کرنے سے عاجز آ جائے، یا مکاتب خود بیچے جانے پر راضی ہو۔
حدیث نمبر: 21722
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، فِي آخَرِينَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ بَرِيرَةَ، جَاءَتْ تَسْتَعِينُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: إِنْ أَحَبَّ أَهْلُكِ أَنْ أَصُبَّ لَهُمْ ثَمَنَكِ صَبَّةً وَاحِدَةً وَأُعْتِقَكِ فَعَلْتُ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ بَرِيرَةُ لِأَهْلِهَا، فَقَالُوا: لَا، إِلَّا أَنْ يَكُونَ وَلَاؤُكِ لَنَا، قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَى: فَزَعَمَتْ عَمْرَةُ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، اشْتَرِيهَا وَأَعْتِقِيهَا، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ ". ⦗٥٦٥⦘ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ مَالِكٍ. أَرْسَلَهُ مَالِكٌ فِي أَكْثَرِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، وَأَسْنَدَهُ عَنْهُ مُطَرِّفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ..حافظ ثناء اللہ
عمرہ بنت عبدالرحمن رحمہا اللہ فرماتی ہیں کہ بریرہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مدد طلب کرنے کے لیے آئیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اگر تیرے گھر والے پسند کریں تو میں ایک بار ساری قیمت ادا کر کے تجھے آزاد کر دیتی ہوں، تو بریرہ رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر والوں سے بات کی۔ انہوں نے کہا: اگر ولاء ہمارے لیے ہوگی تو پھر درست ہے۔ یحییٰ کہتے ہیں: عمرہ بنت عبدالرحمن کا خیال ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ ﷺ کے سامنے کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کوئی چیز رکاوٹ نہ بنے، خریدو اور آزاد کرو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہوتی ہے۔“