السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : إفلاس المكاتب. باب: مکاتب کے مفلس (کنگال) ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21690
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، وَأَبُو الْحَسَنِ السَّرَّاجُ قَالَا: أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمَانَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ قَتَادَةُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: إِنَّ شُرَيْحًا كَانَ يَقُولُ: يُبْدَأُ بِالْمُكَاتَبَةِ قَبْلَ الدَّيْنِ، أَوْ يُشْرَكُ بَيْنَهُمَا " شَكَّ شُعْبَةُ، فَقَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: أَخْطَأَ شُرَيْحٌ وَإِنْ كَانَ قَاضِيًا، قَالَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: " يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ ". قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِيَ، عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ قَالَ: " يُبْدَأُ بِالدَّيْنِ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے کہا کہ قاضی شریح رحمہ اللہ فرماتے تھے: پہلے کتابت پھر قرض ادا کیا جائے یا دونوں کو اکٹھا۔ شعبہ کو شک ہے، ابن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ نے غلطی کی، اگرچہ وہ قاضی ہیں۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرض سے ابتدا کی جائے گی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی شریح رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: قرض سے ابتدا کی جائے گی۔