السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : موت المكاتب. باب: مکاتب کے فوت ہو جانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 21685
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ مُكَاتَبٌ وَلِمُكَاتَبِهِ وَلَدٌ مِنْ وَلِيدَةٍ لَهُ، وَكَانَ قَدْ أَدَّى مِنْ كِتَابَتِهِ خَمْسَةَ عَشَرَ أَلْفًا، فَمَاتَ، فَقَبَضَ مَالَهُ كُلَّهُ، وَلَمْ يَجْعَلْ لِوَلَدِهِ شَيْئًا، وَاسْتَرَقَّ وَلَدَهُ، وَقَبَضَ مَالَهُ..حافظ ثناء اللہ
سیدنا نافع رحمہ اللہ، سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کا ایک مکاتب تھا، جس کی اولاد ان کی لونڈی سے تھی۔ اس نے کتابت کے ۱۵ ہزار ادا کر دیے، پھر وہ فوت ہو گیا تو انہوں نے اس کا مال قبضے میں کر لیا، اولاد کو کچھ نہ دیا، اولاد کو غلام بنایا اور ان کا مال بھی قبضے میں لے لیا۔