❮
❯
حدیث نمبر: 21681
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " يُقْضَى عَنْهُ مَا عَلَيْهِ، ثُمَّ لِبَنِيهِ مَا بَقِيَ ". وَقَالَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ: مَا أَرَاهُ لِبَنِيهِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: يَعْنِي: أَنَّهُ لِسَيِّدِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ، وَبِقَوْلِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ هَذَا نَقُولُ، وَهُوَ قَوْلُ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَمَّا مَا رُوِيَ، عَنْ عَطَاءٍ أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَهُوَ رَوَى عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْمُكَاتَبِ: " يَعْتِقُ مِنْهُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى "، وَلَا أَدْرِي أَيَثْبُتُ عَنْهُ أَمْ لَا؟ وَإِنَّمَا نَقُولُ بِقَوْلِ زَيْدٍ فِيهِ.
حافظ ثناء اللہ

ابن طاؤس رحمہ اللہ اپنے والد رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جو اس کے ذمے ہے وہ رقم ادا کی جائے، باقی اس کے بیٹوں کو ادا کی جائے۔ عمرو بن دینار نے کہا: میرا خیال نہیں کہ یہ اس کے بیٹوں کا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی وہ اس کے مالک کا ہے، واللہ اعلم، اور ہم عمرو بن دینار کے قول کے قائل ہیں اور یہی سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ مکاتب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جتنی رقم اس نے ادا کر دی اتنا وہ آزاد کیا جائے گا، مجھے معلوم نہیں کہ یہ ان سے ثابت ہے یا نہیں۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب المكاتب / حدیث: 21681
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»