السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها. باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21671
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي شَبِيبٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ يُكْنَى بِأَبِي أُمَيَّةَ، فَجَاءَهُ بِنَجْمِهِ حِينَ حَلَّ، فَقَالَ: " اذْهَبْ فَاسْتَعِنْ بِهِ فِي مُكَاتَبَتِكَ "، فَقَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ تَرَكْتَهُ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ نَجْمٍ، قَالَ: إِنِّي أَخَافُ أَلَّا أُدْرِكَ ذَلِكَ، ثُمَّ قَرَأَ: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ} [النور: ٣٣] قَالَ عِكْرِمَةُ: وَكَانَ أَوَّلَ نَجْمٍ أُدِّيَ فِي الْإِسْلَامِ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک غلام سے مکاتبت کی، جس کی کنیت ابو امیہ تھی، وہ کتابت کے پیسے لے کر آیا، وہ کہنے لگے: لے جاؤ، اپنی مکاتبت میں اس سے مدد حاصل کرو۔ اس نے کہا: اے امیر المؤمنین! اگر آپ اس کو چھوڑ دیں یہاں تک کہ دوسرا حصہ آجائے، مجھے خوف ہے کہ کہیں آپ عاجز نہ آجائیں، پھر پڑھا: ﴿وَآتُوهُم مِّن مَّالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33]۔ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ پہلا حصہ تھا جو اسلام میں ادا کیا گیا۔