السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من كره أخذها فأبرأه من مال الكتابة بقدرها. باب: جس نے اسے (صدقات کو) وصول کرنا مکروہ سمجھا، چنانچہ اس نے اسے اسی قدر مالِ کتابت سے بری کر دیا۔
حدیث نمبر: 21670
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَ: شَهِدْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيَّ كَاتَبَ عَبْدًا لَهُ عَلَى أَرْبَعَةِ آلَافٍ، وَشَرَطَ عَلَيْهِ إِنْ عَجَزَ فَهُوَ رَدٌّ فِي الرِّقِّ، وَمَا أَخَذْتُ فَهُوَ لِي، وَوَضَعَ عَنْهُ الْأَلْفَ الْبَاقِيَ مِنَ الْأَرْبَعَةِ، وَقَالَ: " إِنِّي سَمِعْتُ خَلِيلَكَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: {وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللهِ الَّذِي آتَاكُمْ} [النور: ٣٣]: " الرُّبُعُ ".حافظ ثناء اللہ
سفیان، عبدالاعلیٰ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں ابوعبدالرحمن سلمی رحمہ اللہ کے پاس آیا، انہوں نے اپنے غلام سے چار ہزار پر مکاتبت کی تھی اور شرط رکھی کہ اگر وہ عاجز آ جائے تو وہ دوبارہ غلام بن جائے گا اور جو میں نے لے لیا وہ میرا ہو گا، تو چار ہزار میں سے ایک ہزار اس کے کم کر دیے اور کہنے لگے کہ میں نے آپ کے دوست سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿وَآتُوهُمْ مِنْ مَالِ اللَّهِ الَّذِي آتَاكُمْ﴾ [سورة النور: 33] سے مراد چوتھا حصہ ہے۔