السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي صلاة العصر باب: جس نے کہا: ”یہ عصر کی نماز ہے“ اس کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ حَدَّثَنِي أَبِي ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنِ التَّيْمِيِّ فَذَكَرَهُ مَوْقُوفًا قَالَ عَبْدُ اللهِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ هُوَ أَبُو صَالِحٍ السَّمَّانُ وَلَا بَاذَامُ هَذَا بَصْرِيُّ أُرَاهُ مِيزَانَ يَعْنِي اسْمُهُ مِيزَانُ قَالَ الشَّيْخُ: وَهَذَا قَوْلُ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي أَصَحِّ الرِّوَايَتَيْنِ عَنْهُ وَقَوْلُ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ وَأَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ وَأَبِي هُرَيْرَةَ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِحْدَى الرِّوَايَتَيْنِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرُوِيَ عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ ذُوَيْبٍ وَهُوَ مِنَ التَّابِعِينَ أَنَّهَا صَلَاةُ الْمَغْرِبِ.(ا) یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ نے تیمی رحمہ اللہ سے اسی حدیث کو موقوف روایت کیا ہے۔ عبداللہ (بن احمد) کہتے ہیں کہ میرے والد نے فرمایا: یہ (ابوصالح) نہ ابوصالح سمان ہیں اور نہ باذام، یہ بصری ہیں، میرا خیال ہے کہ یہ میزان ہیں، یعنی ان کا نام میزان ہے۔ شیخ (بیہقی رحمہ اللہ) فرماتے ہیں: یہی (کہ درمیانی نماز عصر ہے) سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ان سے مروی دو روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت کے مطابق قول ہے، اور یہی سیدنا ابی بن کعب، سیدنا ابو ایوب انصاری، سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص کا قول ہے، اور سیدنا ابن عمر، سیدنا ابن عباس، سیدنا ابوسعید خدری اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہم سے مروی دو روایتوں میں سے ایک روایت یہی ہے۔
(ب) قبیصہ بن ذویب تابعی رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ درمیانی نماز مغرب کی نماز ہے۔