السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : ما جاء في المكاتب يصيب حدا، أو ميراثا، أو يقتل. باب: اس مکاتب کے بارے میں وارد شدہ احکام جو کسی حد کا مستحق ہو جائے، یا وراثت پائے، یا قتل کر دیا جائے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ يَقُولُ: كَانَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ يَقُولُ: " الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ ".ابوبکر محمد بن ابراہیم نے ہمیں خبر دی، ہمیں ابونصر العراقی نے بتایا، ہمیں سفیان بن محمد الجوہری نے حدیث بیان کی، ہمیں علی بن حسن نے حدیث بیان کی، ہمیں عبداللہ بن ولید نے حدیث بیان کی، ہمیں سفیان نے طارق بن عبدالرحمن سے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا کہ میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا کہ سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: «الْمُكَاتَبُ عَبْدٌ مَا بَقِيَ عَلَيْهِ دِرْهَمٌ» ”مکاتب اس وقت تک غلام ہی ہے جب تک اس کے ذمے ایک درہم باقی ہے“۔ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: «يَعْتِقُ مِنْهُ بِالْحِسَابِ بِقَدْرِ مَا أَدَّى» ”وہ اپنی ادا کردہ رقم کے حساب سے آزاد ہو گا“۔
اور طارق سے، وہ شعبی سے اور وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: «الْمُكَاتَبُ يَرِثُ بِقَدْرِ مَا أَدَّى» ”مکاتب اپنی ادا کردہ رقم کے بقدر وارث بنے گا“۔ [ضعیف]