السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : المكاتب عبد ما بقي عليه درهم باب: مکاتب اس وقت تک غلام ہی رہتا ہے جب تک اس پر (مالِ کتابت کا) ایک درہم بھی باقی ہو۔
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا نَسْمَعُ مِنْكَ، فَتَأْذَنُ لِي فَأَكْتُبُهَا؟ قَالَ: " نَعَمْ "، فَكَانَ أَوَّلَ مَا كَتَبَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ: " لَا يَجُوزُ شَرْطَانِ فِي بَيْعٍ وَاحِدٍ، وَلَا بَيْعٌ وَسَلَفٌ مَعًا، وَلَا بَيْعُ مَا لَمْ يُضْمَنْ، وَمَنْ كَانَ مُكَاتَبًا عَلَى مِائَةِ دِرْهَمٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا عَشَرَةَ دَرَاهِمَ فَهُوَ عَبْدٌ "، أَوْ " عَلَى مِائَةِ أُوقِيَّةٍ فَقَضَاهَا كُلَّهَا إِلَّا أُوقِيَّةً فَهُوَ عَبْدٌ ". كَذَا وَجَدْتُهُ، وَلَا أَرَاهُ مَحْفُوظًا..سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ”اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم آپ ﷺ سے (احادیث) سنتے ہیں، تو کیا آپ ﷺ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں لکھ لیا کروں؟“ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ٹھیک ہے۔“ وہ کہتے ہیں کہ پہلی چیز جو رسول اللہ ﷺ نے اہل مکہ کی طرف لکھی، وہ یہ تھی: ”ایک بیع میں دو شرطیں جائز نہیں، بیع اور سلف اکٹھے جائز نہیں ہیں، اور نہ ایسی بیع جائز ہے جس کی ضمانت نہ دی گئی ہو، اور جس نے سو درہم پر غلام سے مکاتبت کی، اس نے تمام درہم ادا کر دیے سوائے دس درہموں کے، تو وہ غلام ہی ہے، یا سو اوقیہ پر مکاتبت کی، سارے ادا کیے لیکن ایک اوقیہ باقی تھا، تو وہ غلام ہی ہے۔“