السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المكاتب— مکاتب کرنے کا بیان۔
باب: : من لم يكره كتابة عبده وإن كان غير قوي ولا أمين. باب: جس نے اپنے غلام کو مکاتب بنانے کو مکروہ نہیں سمجھا، اگرچہ وہ طاقتور اور امانت دار نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ الْفَرَّاءِ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي ثَرْوَانَ الْحَارِثِيُّ، عَنِ ابْنِ التَّيَّاحِ، أَنَّهُ أَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: أُرِيدُ أَنْ أُكَاتِبَ، فَقَالَ: " أَعِنْدَكَ شَيْءٌ؟ "، قَالَ: لَا، قَالَ: فَجَمَعَهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ: " أَعِينُوا أَخَاكُمْ "، فَجَمَعُوا لَهُ، قَالَ: فَبَقِيَ بَقِيَّةٌ عَنْ مُكَاتَبَتِهِ قَالَ: فَأَتَى عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَهُ عَنِ الْفَضْلَةِ، فَقَالَ: " اجْعَلْهَا فِي الْمُكَاتَبِينَ ". هَذَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْمُكَاتَبَ إِنَّمَا يُعْطَى مِنَ الصَّدَقَاتِ مِنْ سَهْمِ الرِّقَابِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَعْتِقَ..ابن تیاح سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میں مکاتبت کا ارادہ رکھتا ہوں، انہوں نے پوچھا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے؟ کہنے لگے: نہیں۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: اپنے بھائی کی مدد کرو، تو انہوں نے اس کے لیے مال جمع کیا۔ وہ کہتے ہیں: اس کی مکاتبت (کی رقم) سے کچھ بچ گیا، پھر وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور باقی ماندہ کے بارے میں سوال کیا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اسے (دوسرے) مکاتبین میں لگا دو۔ یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ مکاتب کو صدقات میں سے غلاموں کے حصے سے صرف اتنا دیا جائے گا جتنا اس کی آزادی کے لیے باقی ہو۔