السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : ما جاء في تدبير الصبي ووصيته. باب: نابالغ بچے کے (اپنے غلام کو) مدبر بنانے اور اس کی وصیت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21599
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ، أنبأ أَبُو عَمْرٍو، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، أَنَّ غُلَامًا مِنْ غَسَّانَ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِالْمَدِينَةِ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ فُلَانًا يَمُوتُ، أَفَيُوصِي؟ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " نَعَمْ فَلْيُوصِ "، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ: وَكَانَ الْغُلَامُ ابْنَ عَشْرِ سِنِينَ، أَوِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَوْصَى بِمَالٍ لَهُ يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمٍ، فَبَاعَهَا أَهْلُهَا بِثَلَاثِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ.حافظ ثناء اللہ
ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غسان کا ایک غلام تھا، مدینہ میں اس کی موت کا وقت آگیا اور اس کے ورثاء شام میں تھے۔ یہ خبر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو ملی۔ کہا گیا: فلاں مر رہا ہے، کیا وہ وصیت کر لے؟ تو سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ وصیت کر لے۔ ابوبکر بن محمد کہتے ہیں کہ بچے کی عمر ۱۰ سال یا ۱۲ سال تھی۔ اس نے بئرِ جشم مال کی وصیت کر دی تو اس کے ورثاء نے اس کو ۳۰ ہزار درہم میں فروخت کر دیا۔