السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : ما جاء في تدبير الصبي ووصيته. باب: نابالغ بچے کے (اپنے غلام کو) مدبر بنانے اور اس کی وصیت کے بارے میں وارد شدہ احکام کا بیان۔
حدیث نمبر: 21598
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَهُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَهُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: " فَلْيُوصِ لَهَا "، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ بِئْرُ جُشَمٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا، وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ.حافظ ثناء اللہ
عمرو بن سلیم زرقی رحمہ اللہ نے خبر دی کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: یہاں غسان کا ایک قریب البلوغ لڑکا ہے جو ابھی بالغ نہیں ہوا، اس کا وارث شام میں ہے، وہ مال دار ہے اور یہاں اس کی صرف ایک چچا کی بیٹی ہے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر وہ اس کے لیے وصیت کر دے۔ چنانچہ اس نے اس کے لیے ایک مال کی وصیت کی، جس کو بئرِ جشم کہا جاتا ہے، عمرو بن سلیم رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ وہ مال میں نے تیس ہزار میں فروخت کیا۔ اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے اس نے وصیت کی تھی، وہ عمرو بن سلیم کی والدہ تھیں۔