السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
حدیث نمبر: 21589
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: " إِذَا دَبَّرَ الرَّجُلُ جَارِيَتَهُ فَإِنَّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَبِيعَهَا، وَلَا يَهَبَهَا، وَوَلَدُهَا بِمَنْزِلَتِهَا ".حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن سعید نے سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سنا، وہ کہتے ہیں کہ جب آدمی اپنی لونڈی کو مدبر کرتا ہے، تو اس کے لیے اس سے وطی (یعنی مجامعت) کرنا جائز ہے، لیکن وہ اس کو فروخت اور ہبہ نہ کرے اور اس کی اولاد اس کے مرتبہ پر ہے۔