السنن الكبرى للبيهقي
كتاب المدبر— مدبر کا بیان
باب: : ما جاء في ولد المدبرة من غير سيدها بعد تدبيرها باب: مدبرہ لونڈی کے اس بچے کا بیان جو تدبیر (آقا کی موت کے بعد آزادی کے وعدے) کے بعد آقا کے علاوہ کسی اور سے پیدا ہو۔
ذَكَرَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ، فِيهِمْ قَوْلَيْنِ: أَحَدُهُمَا: أَنَّهُمْ بِمَنْزِلَتِهَا يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا، وَيُرَقُّونَ بِرِقِّهَا "، قَالَ: وَقَدْ قَالَ هَذَا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ..امام شافعی رحمہ اللہ نے ان (کی اولاد) کے بارے میں دو قول ذکر کیے ہیں: ”ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہ اسی (اپنی ماں) کے درجے میں ہیں، اس کے آزاد ہونے سے آزاد ہوں گے اور اس کے غلام رہنے سے غلام رہیں گے۔“
(امام شافعی رحمہ اللہ نے) فرمایا: ”اور یہ بات بعض اہل علم نے بھی کہی ہے...“
أَخْبَرَنَا أَبُوحَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنبأ زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا حَجَّاجٌ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ، مَوْلَى الْحُرَقَةِ بَطْنٌ مِنْ بُطُونِ جُهَيْنَةَ قَالَ: أَنْكَحَ سَيِّدُ جَدَّتِي عَبْدًا لَهُ، ثُمَّ أَعْتَقَهَا عَنْ دُبُرٍ وَقَدْ وَلَدَتْ أَوْلَادًا بَعْدَ عِتْقِهَا عَنْ دُبُرٍ، ثُمَّ تُوُفِّيَ سَيِّدُهَا فَخَاصَمَتْ إِلَى عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَضَى أَنَّ مَا وَلَدَتْ قَبْلَ أَنْ تُدَبَّرَ عَبِيدٌ، وَمَا وَلَدَتْ بَعْدَ التَّدْبِيرِ يَعْتِقُونَ بِعِتْقِهَا.ابونضر فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن یعقوب حرقہ قبیلہ جہینہ کے غلام تھے، وہ فرماتے ہیں کہ میری دادی کے سردار نے ایک غلام کا نکاح کر دیا اور بعد میں اس کو مدبر کر دیا، آزادی کے بعد اس کے ہاں اولاد ہوئی، پھر اس کا سردار فوت ہو گیا، تو جھگڑا سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہوں نے فیصلہ فرمایا کہ جو مدبر ہونے سے پہلے کی اولاد ہے وہ غلام ہے اور جو تدبیر کے بعد کی اولاد ہے وہ آزاد ہے۔