السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: من قال: هي صلاة العصر باب: جس نے کہا: ”یہ عصر کی نماز ہے“ اس کا بیان
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِي مُكْرَمُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَاضِي بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزِّبْرِقَانِ ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ثنا فُضَيْلُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنِي شَقِيقُ بْنُ عُقْبَةَ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنِي الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ قَالَ: " نَزَلَتْ " حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ " فَقَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللهُ أَنَّ نَقْرَأَهَا ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللهَ نَسَخَهَا فَأَنْزَلَ {حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى} [البقرة: ٢٣٨] فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَهِيَ صَلَاةُ الْعَصْرِ؟ فَقَالَ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ؟ وَاللهُ أَعْلَمُ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ عَنِ الْفُضَيْلِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: هِيَ إِذًا صَلَاةُ الْعَصْرِ فَقَالَ الْبَرَاءُ: قَدْ أَخْبَرْتُكَ كَيْفَ نَزَلَتْ وَكَيْفَ نَسَخَهَا اللهُ تَعَالَى قَالَ مُسْلِمٌ: وَرَوَاهُ الْأَشْجَعِيُّ يَعْنِي.سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَصَلَاةِ الْعَصْرِ﴾ ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً عصر کی نماز پر۔“ جتنا عرصہ اللہ نے چاہا ہم نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں اس کی تلاوت کی پھر اللہ نے یہ منسوخ کر دی اور یہ نازل کی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَى﴾ [سورة البقرة: 238] ”نمازوں پر محافظت کرو خصوصاً درمیانی نماز پر۔“ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے ایک آدمی نے پوچھا: کیا یہ عصر کی نماز ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے تمہیں بتا دیا ہے کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اللہ نے اس کو منسوخ کیا۔ واللہ اعلم
صحیح مسلم میں فضیل سے یہی روایت منقول ہے مگر اس میں یہ ہے کہ پھر اس آدمی نے کہا: تب یہ عصر کی نماز ہوگی۔ براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے تمہیں بتایا نہیں کہ یہ کیسے نازل ہوئی اور کیسے اس کو اللہ نے منسوخ کیا ہے۔