السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من قال له عليه ولاء. باب: جس نے کہا: اس (اٹھانے والے) کا اس (بچے) پر ولاء ثابت ہوگا۔
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ قَالَا: ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سِنِينَ أَبَا جَمِيلَةَ، يُحَدِّثُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ يَقُولُ: وَجَدْتُ مَنْبُوذًا عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَذَكَرَهُ عَرِيفِي لِعُمَرَ، فَأَرْسَلَ إِلِيَّ فَدَعَانِي وَالْعَرِيفُ عِنْدَهُ، فَلَمَّا رَآنِي مُقْبِلًا قَالَ: هَذَا؟ عَسَى الْغُوَيْرُ أَبْؤُسًا، قَالَ الْعَرِيفُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، إِنَّهُ لَيْسَ بِمُتَّهَمٍ، قَالَ: عَلَى مَا أَخَذْتَ هَذَا؟ قَالَ: " وَجَدْتُ نَفْسًا مُضَيَّعَةً، فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَأْجُرَنِيَ اللهُ فِيهَا، قَالَ: " هُوَ حُرٌّ وَوَلَاؤُهُ لَكَ، وَعَلَيْنَا رَضَاعُهُ ". أَجَابَ عَنْهُ الشَّافِعِيُّ بِأَنَّهُ: " لَيْسَ مِمَّا يَثْبتُ مِثْلُهُ هُوَ، عَنْ رَجُلٍ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ - يَعْنِي: أَبَا جَمِيلَةَ. ثُمَّ سَاقَ كَلَامَهُ إِلَى أَنَّ السُّنَّةَ جَاءَتْ بِأَنَّ الْوَلَاءَ إِنَّمَا هُوَ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَأَنَّ الْحَدِيثَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ يَعْزُبُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ، وَلَيْسَ فِي أَحَدٍ وَلَوْ كَانُوا عَدَدًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجَّةٌ "..سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک پھینکا ہوا بچہ پایا، میرے نگران نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تذکرہ کر دیا، انہوں نے میری طرف کسی کو روانہ کیا اور مجھے بلوایا اور عریف بھی وہاں تھے، جب انہوں نے مجھے آتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے: یہ ہے۔ عریف نے کہا: اے امیر المؤمنین! یہ متہم نہیں ہے، فرمانے لگے: آپ نے اس کو کیوں لیا؟ عرض کیا: میں نے ایک جان کو ضائع ہوتے دیکھا، میں نے خیال کیا کہ اللہ مجھے اجر عطا کرے گا، کہنے لگے: وہ آزاد ہے، اس کی ولاء آپ کے لیے ہے اور ہمارے ذمہ صرف پرورش کرنا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ ولاء اس کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ ممکن ہے صحابہ سے بعض احادیث مخفی رہ گئی ہوں، اگرچہ صحابہ کی تعداد زیادہ بھی تھی۔