السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الولاء— ولاء کا بیان
باب: : من وجد منبوذا فالتقطه لم يثبت له عليه ولاء. باب: جسے کوئی لاوارث پڑا ہوا بچہ ملا اور اس نے اسے اٹھا لیا تو اس (اٹھانے والے) کے لیے اس بچے پر ولاء (حقِ سرپرستی و وراثت) ثابت نہیں ہوگا۔
حدیث نمبر: 21466
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَادَتْ أَنْ تَشْتَرِيَ وَلِيدَةً فَتُعْتِقَهَا، فَقَالَ أَهْلُهَا: نَبِيعُكِهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " لَا يَمْنَعْكِ ذَلِكَ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " ⦗٥٠٣⦘ أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو نبی ﷺ کی بیوی ہیں، ان کا ارادہ تھا کہ ایک لونڈی کو خرید کر آزاد کر دیں، لیکن اس کے مالک کہنے لگے: ہم فروخت کریں گے لیکن ولاء ہماری ہوگی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی ﷺ کے سامنے تذکرہ کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تجھے کوئی چیز نہ روکے، ولاء اس کی ہوتی ہے جو آزاد کرتا ہے۔“