حدیث نمبر: 21429
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ مَسْعَدَةَ، ثنا ابْنُ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ نَافِعٌ: بَعَثَنِي ابْنُ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ، قَالَ: فَجِئْتُ مِنْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: " أَنْتَ حُرٌّ أَنْ تُقِيمَ عِنْدَنَا، وَنَحْنُ مَنْ تَعْرِفُ، قَالَ: قُلْتُ: أَيْنَ أَذْهَبُ؟ أَوْ إِلَى مَنْ أَذْهَبُ؟..
حافظ ثناء اللہ

نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مجھے کسی کام کے لیے بھیجا۔ میں کام سے فارغ ہو کر آیا تو انہوں نے مجھ سے فرمایا: تم آزاد ہو، لیکن تم ہمارے پاس ہی رہو گے اور ہم تمہارے پاس۔ میں نے کہا: میں کہاں جاؤں اور کس کے پاس جاؤں؟

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب العتق / حدیث: 21429
درجۂ حدیث محدثین: حسن
تخریج حدیث «حسن»