السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال: لعبده: أنت حر على أن عليك مائة دينار، أو خدمة سنة، أو عمل كذا، فقبل العبد، أيعتق على ذلك؟ باب: جس نے اپنے غلام سے کہا: تو آزاد ہے اس شرط پر کہ تجھ پر سو دینار دینا، یا ایک سال کی خدمت کرنا، یا فلاں کام کرنا لازم ہے، اور غلام نے اسے قبول کر لیا، تو کیا وہ اس شرط پر آزاد ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: 21428
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَحَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ، أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ، ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ أَنَّ لَهُ عَمَلَهُ سِنِينَ، فَرَعَى لَهُ بَعْضَ سِنِيِّهِ. وَفِي رِوَايَةِ الْقَاضِي: بَعْضَ سَنَةٍ، ثُمَّ قَدِمَ عَلَيْهِ، إِمَّا فِي حَجٍّ، وَإِمَّا فِي عُمْرَةٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: " قَدْ تَرَكْتُ الَّذِي اشْتَرَطْتُ عَلَيْكَ، وَأَنْتَ حُرٌّ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ عَمَلٌ. كَذَا وَجَدْتُهُ: " ثُمَّ اشْتَرَطَ عَلَيْهِ "، وَإِنَّمَا هُوَ: " وَاشْتَرَطَ عَلَيْهِ "..حافظ ثناء اللہ
عقبہ، نافع سے نقل فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک غلام آزاد کیا، پھر اس پر شرط لگائی کہ وہ ایک سال تک ان کا کام کرے گا۔
قاضی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: کچھ سال گزرے تو عبداللہ رضی اللہ عنہما حج یا عمرہ کی غرض سے تشریف لائے تو فرمایا: میں نے اپنی شرط چھوڑ دی، آپ آزاد ہیں، آپ کے ذمہ کام نہیں ہے۔ [صحیح]