السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من قال: لعبده: أنت حر على أن عليك مائة دينار، أو خدمة سنة، أو عمل كذا، فقبل العبد، أيعتق على ذلك؟ باب: جس نے اپنے غلام سے کہا: تو آزاد ہے اس شرط پر کہ تجھ پر سو دینار دینا، یا ایک سال کی خدمت کرنا، یا فلاں کام کرنا لازم ہے، اور غلام نے اسے قبول کر لیا، تو کیا وہ اس شرط پر آزاد ہو جائے گا؟
حدیث نمبر: 21426
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: لَزِمَهُ ذَلِكَ، وَكَانَ دَيْنًا عَلَيْهِ..حافظ ثناء اللہ
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یہ اس پر لازم ہو گیا، اور یہ اس کے ذمے قرض ہو گا...“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ، حَدَّثَنِي سَفِينَةُ، قَالَ: قَالَتْ لِي أُمُّ سَلَمَةَ: أُعْتِقُكَ وَأَشْتَرِطُ عَلَيْكَ أَنْ تَخْدُمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتَ، قَالَ: قُلْتُ: " لَوْ أَنَّكِ لَمْ تَشْتَرِطِي عَلَيَّ مَا فَارَقْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ "، قَالَ: " فَأَعْتَقَتْنِي، وَاشْتَرَطَتْ عَلَيَّ أَنْ أَخْدُمَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا عِشْتُ " ⦗٤٩٢⦘ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ فِي كِتَابِ السُّنَنِ، عَنْ مُسَدَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَارِثِ..حافظ ثناء اللہ
سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تجھے آزاد کرتی ہوں لیکن میری ایک شرط ہے کہ تو زندگی بھر رسول اللہ ﷺ کی خدمت کرے گا۔ میں نے کہا: اگر آپ شرط نہ بھی لگائیں، تب بھی میں اپنی زندگی میں رسول اللہ ﷺ سے جدا نہ ہوتا، لیکن انہوں نے شرط لگا دی کہ میں اپنی موت تک رسول اللہ ﷺ کی خدمت کروں۔