السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من يعتق بالملك. باب: وہ شخص جو محض ملکیت میں آنے سے آزاد ہو جاتا ہے۔
حدیث نمبر: 21425
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ الرَّفَّاءُ، أنبأ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ، ثنا إِسْمَاعِيلُ الْقَاضِي، ثنا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْفُقَهَاءِ الَّذِينَ يُنْتَهَى إِلَى قَوْلِهِمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، كَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا مَلَكَ الْوَلَدُ الْوَالِدَ عَتَقَ الْوَالِدُ، وَإِنْ مَلَكَ الْوَالِدُ الْوَلَدَ عَتَقَ الْوَلَدُ ". وَأَمَّا مَا سِوَى ذَلِكَ مِنَ الْقَرَابَةِ فَيَخْتَلِفُونَ فِيهِ. قَالَ الْقَاضِي: وَقَالَ عِيسَى بْنُ مِينَاءٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، فَاخْتَلَفَ فِيهِ النَّاسُ قَالَ ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ عَنْهُمْ، وَكَانُوا يَقُولُونَ: " إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلُ شِقْصًا مِنْ أَبِيهِ، أَوْ أُمِّهِ عَتَقَ ذَلِكَ الشِّقْصُ، وَقُوِّمَ عَلَيْهِ مَا بَقِيَ، فَيُعْتَقُ كُلُّهُ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ وَرِثَ مِنْهُ شِقْصًا وَلَمْ يَشْتَرِهِ عَتَقَ الشِّقْصُ، وَلَمْ يُقَوَّمْ عَلَيْهِ الْبَاقِي ".حافظ ثناء اللہ
عبدالرحمن بن ابی زناد اپنے والد سے اور وہ ان فقہاء سے نقل فرماتے ہیں جن کا قول معتبر ہے کہ جب بچہ باپ کا مالک بن جائے تو باپ آزاد ہو جائے گا۔ اگر باپ بچے کا مالک بن جائے تو بچہ آزاد ہو جائے گا، لیکن باقی قرابت داروں میں اختلاف ہے۔
قاضی رحمہ اللہ نے فرمایا: ابن ابی زناد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص اپنے باپ یا ماں کا ایک حصہ خرید لے تو باقی ماندہ کو بھی خرید کر آزاد کرنا اس کے ذمہ ہے۔ اگر کوئی دوسرا وارث ہوا تو پھر اس کو آزاد کرنا لازم نہیں، جتنا آزاد ہو گیا سو ہو گیا۔