السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
باب: تعجيل صلاة الصبح باب: صبح (فجر) کی نماز جلدی ادا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2142
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَبِي عِيسَى ثنا الْمُقْرِئُ ثنا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ حَدَّثَهُ أَنَّهُ تَسَحَّرَ مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ إِلَى الصَّلَاةِ فَقَالَ أَنَسٌ: قُلْتُ لِزَيْدٍ: كَمْ كَانَ بَيْنَ ذَلِكَ؟ قَالَ: قَدْرُ خَمْسِينَ أَوْ سِتِّينَ آيَةً " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ هَمَّامٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُمْ تَسَحَّرُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَمْرٍو النَّاقِدِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هَارُونَ، عَنْ هَمَّامٍ بِمَعْنَاهُ.حافظ ثناء اللہ
(ا) قتادہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انھیں بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کا کھانا کھایا، پھر میں نماز کے لیے نکل پڑا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے زید رضی اللہ عنہ سے پوچھا: سحری اور نماز میں کتنا وقفہ تھا؟ انھوں نے کہا: جتنی دیر میں آدمی پچاس یا ساٹھ آیات پڑھ لے۔
(ب) امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ روایت ہمام سے عمرو بن عاصم کے واسطے سے روایت کی ہے، البتہ اس میں جمع کے الفاظ استعمال کیے، یعنی انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سحری کی، پھر نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔