السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : إثبات استعمال القرعة باب: قرعہ اندازی کے استعمال کے ثبوت کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: " قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ} [آل عمران: 44] وَقَالَ: {وَإِنَّ يُونُسَ لِمَنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ} [الصافات: 140] فَأَصْلُ الْقُرْعَةِ فِي كِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي قِصَّةِ الْمُقْتَرِعِينَ عَلَى مَرْيَمَ، وَالْمُقَارِعِينَ يُونُسَ عَلَيْهِ السَّلَامُ مُجْتَمِعَةٌ، وَلَا تَكُونُ الْقُرْعَةُ وَاللهُ أَعْلَمُ إِلَّا بَيْنَ قَوْمٍ مُسْتَوِينَ فِي الْحُجَّةِ. وَبَسَطَ الْكَلَامَ فِيهِ، وَهُوَ مَنْقُولٌ فِي كِتَابِ الْمَبْسُوطِ..امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْيَمَ وَمَا كُنْتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ﴾ ”اور آپ ان کے پاس موجود نہ تھے جب وہ اپنے قلم (قرعہ اندازی کے لیے) ڈال رہے تھے کہ ان میں سے کون مریم کی کفالت کرے، اور نہ آپ ان کے پاس موجود تھے جب وہ آپس میں جھگڑ رہے تھے۔“ [سورة آل عمران: 44]
اور فرمایا: ﴿وَإِنَّ يُونُسَ لِمَنَ الْمُرْسَلِينَ إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ﴾ ”اور بے شک یونس (بھی) رسولوں میں سے تھے، جب وہ بھاگ کر بھری ہوئی کشتی کی طرف گئے، پھر انہوں نے قرعہ اندازی میں حصہ لیا تو وہ ہارنے والوں میں سے ہو گئے۔“ [سورة الصافات: 139-141]
تو قرعہ اندازی کی اصل کتاب اللہ عزوجل میں مریم (علیہا السلام) پر قرعہ ڈالنے والوں اور یونس علیہ السلام کے ساتھ قرعہ اندازی کرنے والوں کے واقعات میں اکٹھی موجود ہے، اور قرعہ اندازی، واللہ اعلم، صرف ایسے لوگوں کے درمیان ہی ہوتی ہے جو دلیل میں برابر ہوں۔“
اور انہوں نے اس بارے میں تفصیلی کلام فرمایا ہے، اور وہ کتاب المبسوط میں منقول ہے...
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ اللَّبَّادُ، ثنا عَمْرُو بْنُ طَلْحَةَ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، وَأَبِي صَالِحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَعَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ التَّفْسِيرَ، وَقَالَ فِي قِصَّةِ مَرْيَمَ عَلَيْهَا السَّلَامُ: إِنَّ الَّذِينَ كَانُوا يَكْتُبُونَ التَّوْرَاةَ إِذَا جَاءُوا إِلَيْهِمْ بِإِنْسَانٍ يُجَرِّبُونَهُ اقْتَرَعُوا عَلَيْهِ، أَيُّهُمْ يَأْخُذُهُ، فَيُعَلِّمُهُ؟ وَكَانَ زَكَرِيَّا أَفْضَلَهُمْ يَوْمَئِذٍ، وَكَانَ نَبِيَّهُمْ، وَكَانَتْ أُخْتُ مَرْيَمَ تَحْتَهُ، فَلَمَّا أَتَوْا بِهَا، قَالَ لَهُمْ زَكَرِيَّا: أَنَا أَحَقُّكُمْ بِهَا، تَحْتِي أُخْتُهَا، فَأَبَوْا، فَخَرَجُوا إِلَى نَهْرِ الْأُرْدُنِّ، فَأَلْقَوْا أَقْلَامَهُمُ الَّتِي يَكْتُبُونَ بِهَا، أَيُّهُمْ يَقُومُ قَلَمُهُ فَيَكْفُلَهَا؟ فَجَرَتِ الْأَقْلَامُ، وَقَامَ قَلَمُ زَكَرِيَّا عَلَى قُرْنَتِهِ كَأَنَّهُ فِي طِينٍ، فَأَخَذَ الْجَارِيَةَ..سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صحابہ سے اس کی تفسیر نقل فرماتے ہیں کہ مریم کا قصہ جب وہ لوگ تورات لکھتے، جب ان کے پاس کوئی انسان آتا تو وہ تجربہ کرتے کہ اس پر قرعہ اندازی کرتے کہ کون اس کو تعلیم دے گا؟ اور سیدنا زکریا علیہ السلام ان میں افضل ترین تھے اور نبی بھی تھے اور مریم[ کی بہن ان کے نکاح میں تھیں، جب وہ ان کو لے کر آئے تو سیدنا زکریا علیہ السلام نے فرمایا: ”میں تم سے زیادہ مستحق ہوں، کیونکہ اس کی بہن میرے نکاح میں ہے۔“ لیکن انہوں نے پھر بھی انکار کیا تو وہ نہرِ اردن کے پاس آئے اور انہوں نے اپنے وہ قلم جن کے ساتھ تورات لکھا کرتے تھے، نہر میں ڈالے کہ اس کی کفالت کون کرے گا؟ تو سیدنا زکریا علیہ السلام کا قلم الٹی سمت چل پڑا جیسے زمین پر چلتا ہے، تو سیدنا زکریا علیہ السلام نے بچی کو لے لیا۔