السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : عتق العبيد لا يخرجون من الثلث. باب: ان غلاموں کو آزاد کرنے کا بیان جو ایک تہائی مال سے متجاوز نہ ہوں۔
حدیث نمبر: 21401
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَجُلًا فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ أَعْتَقَ رَقِيقًا لَهُ جَمِيعًا، فَأَمَرَ أَبَانُ بْنُ عُثْمَانَ بِذَلِكَ الرَّقِيقِ فَقُسِّمُوا أَثْلَاثًا، فَأَسْهَمَ بَيْنَهُمْ عَلَى أَيِّهِمْ يَخْرُجُ سَهْمُ الْمَيِّتِ فَيُعْتَقُوا؟ فَخَرَجَ سَهْمُ الْمَيِّتِ عَلَى أَحَدِ الْأَثْلَاثِ فَعُتِقُوا، قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ.حافظ ثناء اللہ
ربیعہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ابان بن عثمان رحمہ اللہ کے زمانہ میں ایک آدمی نے اپنے تمام غلام آزاد کر دیے، تو ابان بن عثمان رحمہ اللہ نے تمام غلاموں کو حکم دیا، ان کو تین حصوں میں تقسیم کیا، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی۔ جس کا قرعہ نکلتا وہ آزاد کر دیا جاتا، ان میں سے ایک گروپ کا قرعہ نکلا تو اس کو آزاد کر دیا گیا۔