السنن الكبرى للبيهقي
كتاب العتق— غلام آزاد کرنے کا بیان
باب: : من أعتق شركا له في عبد وهو معسر. باب: جس نے کسی غلام میں اپنا حصہ آزاد کیا اور وہ تنگ دست ہو۔
حدیث نمبر: 21357
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو مُحَمَّدٍ ابْنُ أُخْتِ أَبِي عَوَانَةَ حَدَّثَنِي ⦗٤٧٢⦘ خَالِي ثنا الْمَيْمُونِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ، وَأَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ جَمِيعًا يَقُولَانِ: " كَانَ مَالِكٌ مِنْ أَثْبَتِ النَّاسِ فِي حَدِيثِهِ "، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، لَا تُبَالِ أَنْ لَا تَسْأَلَ عَنْ رَجُلٍ حَدَّثَ عَنْهُ مَالِكٌ، وَلَا سِيَّمَا مَدَنِيٌّ..حافظ ثناء اللہ
میمونی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین اور احمد بن حنبل دونوں کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”امام مالک اپنی حدیث میں سب سے زیادہ پختہ لوگوں میں سے تھے۔“ احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: اے ابو الحسن! جس آدمی سے امام مالک نے حدیث روایت کی ہو اس کے بارے میں سوال نہ بھی کرو تو کوئی پروا نہیں، خصوصاً جب وہ مدنی ہو۔